 |
Rent issues after death of landlord.
مالک مکان کی وفات کے بعد کرایہ قانونی ورثاء کو ادا کرنا لازم ہے — 2026 SCMR 1459
مقدمے کے حقائق
اس مقدمے میں درخواست گزار کرایہ دار مرحوم مالک مکان کے زیرِ کرایہ داری تھے۔ مالک مکان کی وفات کے بعد اس کے قانونی وارث نے کرایہ داروں کو قانونی نوٹس بھیجا اور مطالبہ کیا کہ آئندہ کرایہ قانونی ورثاء کو ادا کیا جائے یا ان کے نام جمع کروایا جائے۔
کرایہ داروں نے نوٹس وصول ہونے کے باوجود مرحوم مالک مکان کے نام کرایہ جمع کروانا جاری رکھا۔ اس صورتِ حال پر قانونی ورثاء نے کرایہ داروں کی بے دخلی کے لیے کارروائی شروع کی۔ سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف کرایہ داروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال
کیا مالک مکان کی وفات کے بعد قانونی وارث کا نوٹس وصول ہونے کے باوجود مرحوم مالک مکان کے نام کرایہ جمع کرواتے رہنا قانونی ادائیگی تصور ہوگا، یا اسے دانستہ نادہندگی قرار دے کر کرایہ دار کو بے دخل کیا جا سکتا ہے؟
سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ مالک مکان کی وفات کے ساتھ ہی اس کے قانونی ورثاء قانوناً مالک مکان کے حقوق حاصل کر لیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کرایہ دار اور قانونی ورثاء کے درمیان نئے معاہدۂ کرایہ داری کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عدالت نے واضح کیا کہ جب قانونی وارث کی جانب سے کرایہ ادا کرنے کے متعلق نوٹس موصول ہو جائے تو کرایہ دار اس بات کا پابند ہے کہ کرایہ قانونی ورثاء کو ادا کرے۔ اس کے باوجود مرحوم مالک مکان کے نام کرایہ جمع کرواتے رہنا قانون کی نظر میں درست ادائیگی نہیں ہے۔
عدالت کے مطابق، جب کرایہ دار کو قانونی مطالبے کا علم ہو اور وہ اس کے باوجود درست حق دار کو کرایہ ادا نہ کرے تو اس کا طرزِ عمل دانستہ نادہندگی کے زمرے میں آتا ہے اور اس بنیاد پر بے دخلی کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کیا ایک قانونی وارث بے دخلی کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے؟
سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ جائیداد کے ایک شریک مالک یا قانونی وارث کو کرایہ دار کے خلاف بے دخلی کی کارروائی شروع کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے لیے دیگر شریک مالکان سے تحریری اجازت لینا لازمی نہیں۔ کرایہ دار یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتا کہ دیگر قانونی ورثاء بھی موجود ہیں، اس لیے وہ کسی ایک قانونی وارث کو کرایہ ادا کرنے کا پابند نہیں۔
درخواستوں کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانونی نوٹس وصول ہونے کے باوجود مرحوم مالک مکان کے نام کرایہ جمع کروانا قانونی ادائیگی نہیں تھا۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کی کوئی بنیاد نہ پائی اور دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔
قانونی اصول
اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ مالک مکان کی وفات کے بعد کرایہ دار کو قانونی ورثاء کے حقِ ملکیت اور کرایہ وصول کرنے کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔ قانونی نوٹس ملنے کے بعد مرحوم کے نام کرایہ جمع کرواتے رہنا بے دخلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
حوالہ: 2026 SCMR 1459، محمد رمضان (مرحوم) بذریعہ قانونی ورثاء بنام محمد تسلیم وغیرہ، فیصلہ مورخہ 9 جنوری 2026ء۔
متعلقہ قانونی دفعات: سندھ رینٹڈ پریمیسز آرڈیننس، 1979ء کی دفعات 15 اور 18۔
Must read judgment.مالک مکان کی وفات کے بعد کرایہ قانونی ورثاء کو ادا کرنا لازم ہے — 2026 SCMR 1459
مقدمے کے حقائق
اس مقدمے میں درخواست گزار کرایہ دار مرحوم مالک مکان کے زیرِ کرایہ داری تھے۔ مالک مکان کی وفات کے بعد اس کے قانونی وارث نے کرایہ داروں کو قانونی نوٹس بھیجا اور مطالبہ کیا کہ آئندہ کرایہ قانونی ورثاء کو ادا کیا جائے یا ان کے نام جمع کروایا جائے۔
کرایہ داروں نے نوٹس وصول ہونے کے باوجود مرحوم مالک مکان کے نام کرایہ جمع کروانا جاری رکھا۔ اس صورتِ حال پر قانونی ورثاء نے کرایہ داروں کی بے دخلی کے لیے کارروائی شروع کی۔ سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف کرایہ داروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال
کیا مالک مکان کی وفات کے بعد قانونی وارث کا نوٹس وصول ہونے کے باوجود مرحوم مالک مکان کے نام کرایہ جمع کرواتے رہنا قانونی ادائیگی تصور ہوگا، یا اسے دانستہ نادہندگی قرار دے کر کرایہ دار کو بے دخل کیا جا سکتا ہے؟
سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ مالک مکان کی وفات کے ساتھ ہی اس کے قانونی ورثاء قانوناً مالک مکان کے حقوق حاصل کر لیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کرایہ دار اور قانونی ورثاء کے درمیان نئے معاہدۂ کرایہ داری کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عدالت نے واضح کیا کہ جب قانونی وارث کی جانب سے کرایہ ادا کرنے کے متعلق نوٹس موصول ہو جائے تو کرایہ دار اس بات کا پابند ہے کہ کرایہ قانونی ورثاء کو ادا کرے۔ اس کے باوجود مرحوم مالک مکان کے نام کرایہ جمع کرواتے رہنا قانون کی نظر میں درست ادائیگی نہیں ہے۔
عدالت کے مطابق، جب کرایہ دار کو قانونی مطالبے کا علم ہو اور وہ اس کے باوجود درست حق دار کو کرایہ ادا نہ کرے تو اس کا طرزِ عمل دانستہ نادہندگی کے زمرے میں آتا ہے اور اس بنیاد پر بے دخلی کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کیا ایک قانونی وارث بے دخلی کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے؟
سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ جائیداد کے ایک شریک مالک یا قانونی وارث کو کرایہ دار کے خلاف بے دخلی کی کارروائی شروع کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے لیے دیگر شریک مالکان سے تحریری اجازت لینا لازمی نہیں۔ کرایہ دار یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتا کہ دیگر قانونی ورثاء بھی موجود ہیں، اس لیے وہ کسی ایک قانونی وارث کو کرایہ ادا کرنے کا پابند نہیں۔
درخواستوں کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانونی نوٹس وصول ہونے کے باوجود مرحوم مالک مکان کے نام کرایہ جمع کروانا قانونی ادائیگی نہیں تھا۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کی کوئی بنیاد نہ پائی اور دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔
قانونی اصول
اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ مالک مکان کی وفات کے بعد کرایہ دار کو قانونی ورثاء کے حقِ ملکیت اور کرایہ وصول کرنے کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔ قانونی نوٹس ملنے کے بعد مرحوم کے نام کرایہ جمع کرواتے رہنا بے دخلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
حوالہ: 2026 SCMR 1459، محمد رمضان (مرحوم) بذریعہ قانونی ورثاء بنام محمد تسلیم وغیرہ، فیصلہ مورخہ 9 جنوری 2026ء۔
متعلقہ قانونی دفعات: سندھ رینٹڈ پریمیسز آرڈیننس، 1979ء کی دفعات 15 اور 18۔
Must read judgement.
|
2026 SCMR 1459
[Supreme Court of Pakistan]
Present: Yahya Afridi, CJ and Shakeel Ahmad, J
MUHAMMAD RAMZAN (deceased) through LRs and another ---Petitioners.
Versus
MUHAMMAD TASLEEM and others ---Respondents
Civil Petitions Nos. 1054-K and 1055-K of 2023, decided on 9th January, 2026.
(Against the order dated 06.06.2023, passed by the High Court of Sindh at Karachi in CPs. Nos. S-911 and S-912 of 2002).
(a) Sindh Rented Premises Ordinance (XVII of 1979)--
legal heir) respon --Ss.15 & 18-Eviction proceedings-Death of landlord-Notice by legal heir---Tenant still paying rent in name of deceased landlord---Whether such conduct constituted willful default---Attornment---Automatic succession-Fresh contract between legal heirs and tenant not required---Scope-The petitioners were tenants of the respondent's deceased father; after the landlord's death, the respondent (as I heir) served a legal notice requiring attornment and payment/deposit of rent to the legal heirs; despite admitted knowledge wledge and receipt of notice, the tenants neither paid nor deposited rent in the legal heirs' names and kept depositing it in the deceased landlord's name, leading the legal heirs to institute eviction proceedings-Pivotal question requiring determination before the Supreme Court was as to "Whether a tenant, who admitted service of notice issued by the legal heirs of a deceased landlord, but continued to deposit rent in the name of the deceased landlord instead of paying the same to the legal heirs, committed willful default so as to render himself liable to eviction?" Held: A deposit inthe name of a deceased person was nullity in the eyes of thelaw- helaw---Once a lawful demand for rent was made by a co-heir andthe tenant nt willfully failed to comply, the filing of ejectmentproceedings became a natural and legal consequence ofsuch default--Consequently, the argument that rent could continue to bedeposited in the name of the deceased. landlord, despiteknowledge of the lawful heirs, lost all legal force and could not be countenanced---High Court rightly held that the respondent and theother legal heirs of the deceased landlord became landlordsby operation of law upon the death of their father--In light of acknowledgment of receipt of notice under Section 18 of the Sindh Rented Premises Ordinance, 1979, continued deposit of rent in the name ofthe deceased landford did not constitute payment in the eye of law-Such conduct amounted to willful default, and the tenants were, therefore, liable to eviction on the ground of default in payment of rent--Leave declined and petitions were dismissed. circumstances.
(b) Sindh Rented Premises Ordinance (XVII of 1979)---
Ss. 15 & 18---Death of a landlord-Notice by legal heir--Rent still being deposited in deceased's name-Attornment---Automatic succession---Scope---Upon the death of alandlord, his legal heirs step into his shoes by operation of law-No fresh contract of tenancy or formal act of attornment is required-Attornment follows as a legal consequence of succession, and the tenant is bound to recognize the lawful heirs as landlords and to pay rent tothem, particularly where notice in this regard has been duly served, and its receipt is admitted.
Mst. Suban v. Allah Ditta and others 2007 SCMR 635 rel.
(c) Sindh Rented Premises Ordinance (XVII of 1979)---
Ss.15 & 18-Death of a landlord-Notice by legal heir-Rent still being deposited in deceased's name-Attornment---Scope... Tenant not paying the rent to one legal heir representing rest of legal heirs, plea of---Validity---One legal heir collecting rent on behalf of rest of legal heirs--Scope-One legal heir initiating eviction proceedings---Locus standi---An ejectment application may be filed by one of the landlords alone, and it is not necessary for him to obtain written permission from other co-owners---One of the legal heirs and co-owners of the property, has locus standi to initiate eviction proceedings---The rationale behind this principle is that a co-sharer acts on behalf of and represents the interests of all co-owners in the property--A tenant cannot refuse to pay rent to a lawful co-heir on the ground that there are other heirs.
Anwar Khan v. Abdul Manaf 2004 SCMR 126; Khalique Ahmed v.Abdul Ghani and another PLD 1973 SC 214 and Muhmmad Haanif and another v. Muhammad Jamil Turk and others 2002 SCMR 429 rel. Abdul Qadir Khan, Advocate Supreme Court/Advocate-on-Record for Petitioners (via VI. from Karachi, in both cases).
Shahzaib Akhtar Khan, Advocate Supreme Court for Respondents (via VL. from Karachi, in both cases).
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.