Supreme Court Pakistan on Women’s Inheritance Rights | 30–40 Years Delay Does Not Defeat Legal Share – 2023 SCMR 1901



⚖️ 30 سے 40 سال بعد بھی بیٹیوں کا وراثتی حق برقرار — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

Mohammad Boota Vs. Mst. Fatima
2023 SCMR 1901

🔹 بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر دیا گیا

دین محمد کو ریاست بہاولپور میں زرعی زمین الاٹ ہوئی تھی۔ اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے 1952 اور 1956 میں وراثتی انتقالات اپنے نام کرا لیے، جبکہ اپنی بہنوں کو زرعی زمین میں ان کے شرعی حصے سے محروم رکھا۔

🔹 کئی سال بعد بیٹیوں نے عدالت سے رجوع کیا

دین محمد کی بیٹیوں نے اپنے حق کے حصول کے لیے 1985 اور 1994 میں دعوے دائر کیے۔ یعنی وراثتی انتقالات کے تقریباً 30 سے 40 سال بعد انہوں نے عدالت سے اپنے شرعی حصے کا مطالبہ کیا۔

ٹرائل کورٹ، اپیلٹ کورٹ اور ہائیکورٹ نے بیٹیوں کے حق میں فیصلے کیے۔

⚖️ بھائیوں کا مؤقف: اُس وقت رواج مختلف تھا

بھائیوں نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ اُس دور میں رواج کے مطابق خواتین زرعی زمین کی وارث نہیں بنتی تھیں۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مسلمان خواتین کو محض کسی رواج کی بنیاد پر ان کے شرعی حقِ وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

🔹 زرعی زمین بھی شرعی قانون کے تابع

عدالت نے مسلمانوں کی وراثت سے متعلق شریعت کے نفاذ کی قانونی تاریخ کا جائزہ لیا اور واضح کیا کہ زرعی زمین کی وراثت بھی متعلقہ شرعی قوانین کے تابع تھی۔

لہٰذا ایسا رواج جو مسلمان عورت کو اس کے شرعی حصے سے محروم کرے، اس کی بنیاد پر اس کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

⚖️ غلط انتقال سے حقِ ملکیت ختم نہیں ہوتا

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی خاتون کو وراثت سے محروم کرتے ہوئے زمین کا انتقال مرد وارثوں کے نام کر دیا جائے تو محض ایسا انتقال عورت کے شرعی حق کو ختم نہیں کرتا۔

وراثتی انتقال بنیادی طور پر ریونیو ریکارڈ میں وارثوں کے حق کو ظاہر کرنے کا ذریعہ ہے۔

🔹 30 سے 40 سال کی تاخیر کا اعتراض

بھائیوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ جب انتقالات 1952 اور 1956 میں ہوئے تو دعوے 1985 اور 1994 میں دائر کیے گئے، اس لیے یہ مقدمات بہت دیر سے لائے گئے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عورت کے وراثتی حق کو محض طویل عرصہ گزرنے کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے معاملات میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ حق سے محرومی یا انکار کا علم کب ہوا اور معاملے کے دیگر حالات کیا تھے۔

⚖️ بیٹوں کا والد کے وارث ہونے کا دعویٰ

بھائیوں نے زمین کی قیمت ادا کرنے اور اپنے حقِ ملکیت کا مؤقف بھی اختیار کیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب بیٹے اپنے والد کے وارث ہونے کی حیثیت سے زمین میں حق حاصل کرتے ہیں تو وہ بعد میں اسی وراثتی حیثیت کی بنیاد پر اپنی بہنوں کے شرعی حق سے انکار نہیں کر سکتے۔

🌟 سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے بھائیوں کی اپیلیں خارج کر دیں اور ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں مداخلت سے انکار کر دیا۔

نتیجتاً دین محمد کی بیٹیوں کا شرعی حقِ وراثت برقرار رہا۔

🔸 اہم قانونی نکتہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مسلمان عورت کو کسی رواج، غلط وراثتی انتقال یا محض طویل عرصہ گزر جانے کی بنیاد پر اس کے شرعی حقِ وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

📌 حوالہ جات

Mohammad Boota Vs. Mst. Fatima — 2023 SCMR 1901

Saadat Khan Vs. Shahid-ur-Rehman — PLD 2023 SC 362

Mst. Gohar Khanum Vs. Mst. Jamila Jan — 2014 SCMR 801

Shahla Vs. Jahan Afroz Khilat — 2020 SCMR 352


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post