سول کورٹ میں مقدمہ زیرِ سماعت ہو تو کیا اسی معاملے پر ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جا سکتی ہے؟ —
2026 CLC 1636
مقدمے کا پس منظر
KASB Corporation Limited
نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ رائٹ شیئرز کے اجراء کے لیے دی گئی پیشگی رقم کو کمپنی کے حق میں واجب الادا ذمہ داری قرار دیا جائے۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ یہ رقم اس اسکیم کے تحت واجب الادا تھی جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تجویز کی اور وفاقی حکومت نے منظور کی تھی۔
تاہم، اسی معاملے پر کمپنی پہلے ہی کراچی کی مجاز سول کورٹ میں دعویٰ دائر کر چکی تھی، جو زیرِ سماعت تھا۔ اس کے باوجود کمپنی نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
جسٹس انعام امین منہاس نے قرار دیا کہ جب کسی فریق کو عام قانون کے تحت مناسب اور مؤثر قانونی چارہ جوئی میسر ہو تو ہائی کورٹ عموماً اپنے غیر معمولی آئینی اختیار کو استعمال کرنے سے گریز کرتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ کمپنی اسی تنازع کے حل کے لیے پہلے ہی سول کورٹ میں مقدمہ دائر کر چکی تھی۔ اس لیے اسی معاملے پر متوازی آئینی کارروائی شروع کرنے کے لیے کوئی مضبوط اور قابلِ جواز وجہ ہونا ضروری تھا۔
محض اس بنیاد پر کہ پہلے مقدمے میں پیش رفت تسلی بخش نہیں، فریق کو یہ حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ وہ ایک مقدمہ زیرِ سماعت رکھتے ہوئے دوسرے فورم سے بھی اسی معاملے میں ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
اصولِ انتخابِ قانونی چارہ جوئی (Doctrine of Election)
اس فیصلے میں ایک اہم قانونی اصول
Doctrine of Election
بھی زیرِ بحث آیا۔
اس اصول کے مطابق، جب کوئی فریق کسی تنازع کے حل کے لیے مناسب قانونی راستہ اختیار کرکے کارروائی شروع کر دیتا ہے تو وہ عام طور پر بغیر کسی معقول اور مضبوط وجہ کے اسی ریلیف کے لیے دوسرا قانونی راستہ اختیار نہیں کر سکتا۔
تاہم، اس اصول کا اطلاق ہر معاملے میں خودکار طور پر نہیں ہوتا بلکہ متعلقہ قانون، دستیاب متبادل اور مقدمے کے حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اہم قانونی نکات
متبادل قانونی چارہ جوئی: جب عام قانون کے تحت مناسب اور مؤثر قانونی راستہ موجود ہو تو آئینی درخواست میں مداخلت سے عموماً گریز کیا جا سکتا ہے۔
متوازی مقدمات: ایک ہی معاملے پر سول کورٹ میں مقدمہ زیرِ سماعت ہو تو بلاجواز اسی ریلیف کے لیے متوازی آئینی کارروائی شروع کرنا درست نہیں۔
اصولِ انتخاب: ایک مناسب قانونی راستہ اختیار کرنے کے بعد فریق محض اپنی مرضی سے دوسرا راستہ اختیار نہیں کر سکتا؛ اس کے لیے متعلقہ حالات اور قانونی بنیاد کا جائزہ ضروری ہے۔
ہائی کورٹ کا اختیار: آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کا اختیار غیر معمولی اور صوابدیدی نوعیت کا ہے، جسے عدالتی اصولوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔
حتمی فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئینی درخواست مسترد کر دی اور قرار دیا کہ کمپنی کو اپنے زیرِ سماعت سول دعوے کو مناسب قانونی طریقے سے آگے بڑھانا چاہیے۔
حوالہ: KASB Corporation Limited v. Federation of Pakistan and others, 2026 CLC 1636، آئینی درخواست نمبر 4249/2017، فیصلہ مورخہ 30 اکتوبر 2025۔
Must read judgment.
2026 CLC 1617
[Sindh (Mirpurkhas Bench)]
Before Arbab Ali Hakro and Muhammad Jaffer Raza, JJ
ALEEM and 2 others ---Appellants Versus
Mst. LANJAN and others ---Respondents
L.As. Nos. D-18, D-28 and D-29 of 2024, decided on 14th May, 2026.
Land Acquisition Act (I of 1894)--
Ss. 18, 30 & 31--Acquisition of land-Reference Court--Limitation---Non-service of notices under Ss. 9 & 12(2)---Date of knowledge---Jurisdiction of Referee Court-Appellants/landowners were aggrieved by dismissal of their references by Referee
Judge on the ground that the references made by the Land Acquisition Officer/Collector were barred by time---Held: Appellants/landowners had never been served with notices under S.9 or 8.12(2) of the Land Acquisition Act, 1894, as they were not recorded as owners at the time of acquisition---They came to know of the acquisition only when public notices were published in newspapers or when they approached the revenue offices---They promptly instituted civil suits and thereafter sought references when they were informed that the Civil Court lacked jurisdiction- ction-Where no real no real effort was made to serve to serve landowners who were abroad or otherwise absent, the period of limitation was to run from the date of knowledge, particularly to avoid manifest injustice---References had been wrongly treated as being governed exclusively by S.18 of the Land Acquisition Act, 1894, to the exclusion of Ss.30 & 31 thereof---Referee Court assumed jurisdiction to decide limitation which the statute reserved for the Collector and which, in any event, had become academic once the references had been made-Referee Court failed to exercise jurisdiction vested in it to adjudicate the rival claims to compensation and acted with material irregularity in the exercise of its when they were inform jurisdiction by non-suiting appellants/landowners on an extraneous ground-High Court set aside aside the orders passed by the Referee Court in the references and remanded the references made by the Land Acquisition Officer/Collector under S.18 read with Ss.30 & 31 of the Land Acquisition Act, 1894, to the Referee Court for decision afresh-Appeal was allowed in circumstances.
2020 CLC 1202; 2020 CLC 1916; 2004 MLD 314; 1994 MLD 2339; 2005 MLD 168; Sindh Industrial Trading Estates Ltd. v. First Assistant Judge, Hyderabad PLD 1960 Kar. 826 and Bashir Ahmad v. Collector, Multan PLD 1962 Lah. 292 ref.
2017 YLR Note 14; 2005 MLD 1530 and 2015 CLC 97 distinguished.
Government of N.W.F.P. v. Allah Dad 1996 SCMR 384 rel.
Ghulam Mustafa Hingorjo for Appellants.
Abdul Raheem Chandio for Private Respondents.
Harish Chander, Assistant Advocate General Sindh for Official Respondents.
