Child Custody and Welfare: Lahore High Court Gives Weight to Minor’s Preference | PLD 2026 Lahore 332


⚖️ بچے کی تحویل کا فیصلہ صرف حقیقی والدین ہونے کی بنیاد پر نہیں ہوگا

ایک بچے کو اس کے حقیقی والدین نے کم عمری میں قریبی رشتہ داروں کے سپرد کر دیا تھا۔ ان رشتہ داروں نے تقریباً 9 سال تک بچے کو اپنے بچوں کی طرح پالا اور اس کی پرورش کی۔

👦 حقیقی والدین نے تحویل واپس مانگ لی

جب بچہ تقریباً 13 سال کا ہوا تو اس کے حقیقی والدین نے عدالت سے اس کی تحویل واپس لینے کی درخواست کی۔ گارڈین کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے بچے کی تحویل حقیقی والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا، جبکہ اپیل بھی مسترد ہوگئی۔

🏠 بچے کی اپنی خواہش کیا تھی؟

معاملہ لاہور ہائیکورٹ پہنچا تو عدالت نے بچے کو طلب کرکے اس کی ذہنی کیفیت اور اپنی مرضی جاننے کے لیے سوالات کیے۔ بچے نے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں کہا کہ وہ ان والدین کے ساتھ رہنا چاہتا ہے جنہوں نے اسے تقریباً 9 سال تک پالا تھا۔

⚖️ بچے کی فلاح سب سے اہم

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نابالغ کی تحویل کا فیصلہ کرتے وقت سب سے بنیادی اور اہم معاملہ بچے کی فلاح و بہبود ہے۔ عدالت بچے کی عمر، جنس، مذہب، مجوزہ سرپرست کے کردار و صلاحیت، بچے سے قربت اور اس کے موجودہ تعلقات سمیت مختلف عوامل کو دیکھ سکتی ہے۔

🔊 بچے کی آواز کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا

عدالت نے واضح کیا کہ اگر بچہ اتنی عمر کا ہو کہ اپنی سمجھ بوجھ کے ساتھ رائے دے سکے تو اس کی دانشمندانہ ترجیح اور آواز کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ بچے کی بات سننے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر خواہش لازماً تسلیم کرلی جائے، بلکہ اس کی سوچ اور حالات کو سمجھ کر اس کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

👨‍👩‍👦 حقیقی والدین کا ترجیحی حق، لیکن...

عدالت نے تسلیم کیا کہ حقیقی والدین کو پرورش کرنے والے والدین پر ترجیحی حق حاصل ہوتا ہے، لیکن یہ ترجیح بچے کی فلاح و بہبود سے بالاتر نہیں۔ موجودہ مقدمے میں بچے نے طویل عرصہ پرورش کرنے والے والدین کے ساتھ گزارا تھا اور انہیں ہی اپنا خاندان سمجھتا تھا۔

🏡 بچے کے لیے مانوس ماحول اہم قرار

عدالت نے یہ بھی دیکھا کہ حقیقی والد ایک بڑے خاندان میں رہتے تھے، جبکہ بچہ تقریباً پوری زندگی پرورش کرنے والے خاندان کے ساتھ گزار چکا تھا۔ اچانک اسے ایک ایسے ماحول میں بھیجنے کے اثرات کو بھی عدالت نے بچے کی فلاح کے تناظر میں دیکھا۔

✅ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے بچے کی واضح آواز اور اس کی فلاح و بہبود کے اہم پہلوؤں کو مناسب طور پر نہیں دیکھا۔ چنانچہ سابقہ احکامات ختم کر دیے گئے اور بچے کی تحویل دوبارہ ان افراد کے پاس رہنے دی گئی جنہوں نے اسے پالا تھا۔

📌 اہم قانونی اصول

نابالغ کی تحویل میں حقیقی والدین کا حق اہم ضرور ہے، لیکن بچے کی فلاح و بہبود بنیادی معیار ہے، اور مناسب عمر میں بچے کی دانشمندانہ رائے کو بھی سنجیدگی سے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

⚖️ حوالہ: PLD 2026 Lahore 332 — Sayed Arshad Shah and others v. Additional District Judge and others

Must read judgment.

For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post