کیس کی کہانی:
یہ کیس شاہ آغا بنام ریاست (2025 P Cr. L J 523) کے عنوان سے پشاور ہائی کورٹ (ایبٹ آباد بینچ) میں پیش ہوا۔ جسٹس محمد اعجاز خان نے اس کیس کی سماعت کی۔
پس منظر:
شاہ آغا کے خلاف ایک مقدمہ درج ہوا، جس میں شکایت کنندہ شاہد ہارون تھے، جو جرمنی میں مقیم تھے۔ شکایت کنندہ کا بیان مقدمے میں اہمیت کا حامل تھا، لیکن ان کی بیرون ملک موجودگی کی وجہ سے وہ عدالت میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے۔
درخواست:
شاہ آغا نے عدالت سے درخواست کی کہ شاہد ہارون کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے تاکہ مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
ٹرائل کورٹ کا فیصلہ:
ٹرائل کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی، اور کہا کہ گواہ کی غیر حاضری میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان لینا مناسب نہیں۔
ہائی کورٹ میں اپیل:
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف شاہ آغا نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ:
ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانون شہادت 1984 کے آرٹیکل 164 کے تحت ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی لینا جائز ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ گواہ شاہد ہارون کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے، لیکن بیان سے پہلے گواہ کی شناخت کی تصدیق ضروری ہوگی۔
اعتراض اور جواب:
ملزم نے یہ اعتراض کیا کہ گواہ کی شناخت کیسے یقینی بنائی جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ اگر ملزم کو اس سے کوئی حقیقی نقصان نہ ہو رہا ہو تو یہ اعتراض قابل قبول نہیں۔
اہم پیغام:
اس فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدلیہ جدید ٹیکنالوجی کو انصاف کی فراہمی میں شامل کرنے پر زور دے رہی ہے۔ بیرون ملک مقیم گواہوں کے بیانات کے لیے ویڈیو لنک کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر کوئی کلائنٹ عدالت میں حاضر نہیں ہو سکتا تو اس کیس کا حوالہ دے کر ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرایا جا سکتا ہے۔
No comments:
Post a Comment