پروٹیکٹو ضمانت (Protective Bail)
پروٹیکٹو ضمانت ایک قانونی سہولت ہے جو کسی شخص کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اس کے خلاف کسی دوسرے شہر میں ایف آئی آر درج ہو جائے اور اسے گرفتاری کا خطرہ ہو۔ یہ ضمانت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ملزم کو موقع ملے کہ وہ متعلقہ عدالت تک بغیر گرفتاری پہنچ سکے اور وہاں اپنی عبوری ضمانت کے لیے درخواست دے سکے۔
پروٹیکٹو ضمانت حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
اگر آپ کسی دوسرے شہر میں موجود ہیں اور آپ کے خلاف کسی اور شہر میں ایف آئی آر درج ہو جائے تو درج ذیل خدشات پیدا ہو سکتے ہیں:
- راستے میں گرفتاری: اگر آپ ایف آئی آر والے شہر پہنچنے سے پہلے راستے میں گرفتار ہو جائیں تو آپ اپنی عبوری ضمانت حاصل نہیں کر سکیں گے۔
- ایف آئی آر والے شہر میں گرفتاری: ایف آئی آر والے شہر میں پہنچنے پر پولیس آپ کو گرفتار کر سکتی ہے، جس کے بعد ضمانت کا حصول مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
پروٹیکٹو ضمانت کیسے حاصل کی جائے؟
- ہائی کورٹ میں درخواست: پروٹیکٹو ضمانت کے لیے درخواست صرف پاکستان کے ہائی کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے۔
- درخواست میں حقائق کی وضاحت: درخواست میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ملزم کو گرفتاری کا خطرہ ہے اور وہ بغیر گرفتاری کے متعلقہ عدالت تک پہنچنا چاہتا ہے۔
- عدالتی احکامات: عدالت پروٹیکٹو ضمانت جاری کرتی ہے، جو عام طور پر ایک مخصوص مدت کے لیے ہوتی ہے تاکہ ملزم ایف آئی آر والے شہر پہنچ کر عبوری ضمانت کے لیے درخواست دے سکے۔
پروٹیکٹو ضمانت کے فوائد
- گرفتاری سے تحفظ: پروٹیکٹو ضمانت کے دوران پولیس گرفتاری نہیں کر سکتی۔
- عبوری ضمانت کے حصول میں آسانی: ملزم کو موقع ملتا ہے کہ وہ بلا خوف عدالت پہنچ کر عبوری ضمانت کے لیے درخواست دے۔
- عدالتی تحفظ: عدالت کی ہدایات کی روشنی میں پولیس ملزم کو غیر قانونی طور پر گرفتار نہیں کر سکتی۔
عبوری ضمانت کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
پروٹیکٹو ضمانت حاصل کرنے کے بعد ملزم کو جلد از جلد ایف آئی آر والے شہر کی متعلقہ عدالت میں عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کرنی چاہیے۔ عبوری ضمانت کے دوران ملزم کو عدالت کی شرائط پر عمل کرنا ہوگا اور تفتیش میں تعاون کرنا ہوگا۔
خلاصہ
پروٹیکٹو ضمانت ایک قانونی سہولت ہے جو ہائی کورٹ سے حاصل کی جاتی ہے اور اس کا مقصد ملزم کو عدالت تک پہنچنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ یہ ضمانت گرفتاری کے خوف کو کم کرتی ہے اور ملزم کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کرے۔
No comments:
Post a Comment