بیرونِ ملک جرم اور پاکستان میں قانونی کارروائی
جرم کا ارتکاب چاہے پاکستان میں ہو یا بیرونِ ملک، اگر مجرم پاکستانی شہری ہے تو اسے پاکستانی عدالتوں میں بھی مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی اصول کے تحت لاہور ہائی کورٹ نے حالیہ کیس "محمد ارشاد بنام ریاست" (2025 LHC 1359) میں اہم فیصلہ سنایا۔
پس منظر:
محمد ارشاد عمان (مسقط) میں ایک کمپنی کا ملازم تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے کمپنی کے دیے گئے نقدی، ہیرے کی انگوٹھی اور بینک کارڈ امانت میں خیانت کرتے ہوئے اپنے ذاتی استعمال کے لیے ہتھیا لیے۔ جرم کے بعد، اس نے بڑی رقم پاکستان میں اپنے اور اپنی بیوی کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی۔
قانونی تجزیہ:
1. سیکشن 3 پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت، اگر کوئی پاکستانی شہری بیرونِ ملک کوئی ایسا جرم کرتا ہے جو پاکستان میں بھی جرم ہے، تو اس پر پاکستان میں بھی مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
2. سیکشن 188 کریمنل پروسیجر کوڈ (CrPC) کے مطابق، بیرونِ ملک جرم کی ایف آئی آر پاکستان میں درج کی جا سکتی ہے۔
3. سیکشن 403 CrPC دوہری سزا کے اصول پر مبنی ہے، یعنی اگر کسی کو کسی جرم میں سزا یا بریت مل چکی ہو تو دوبارہ مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ لیکن یہاں ایسا کوئی پہلو سامنے نہیں آیا۔
عدالتی فیصلہ:
عدالت نے تسلیم کیا کہ:
محمد ارشاد نے امانت میں خیانت کی اور مجرمانہ فعل کا ارتکاب کیا۔
رقم کی پاکستان منتقلی نے جرم کو مزید تقویت دی۔
چونکہ جرم کے عناصر پاکستان پینل کوڈ کے تحت بھی پورے ہوتے ہیں، لہٰذا مقدمہ پاکستان میں چلایا جا سکتا ہے۔
نتیجہ:
یہ فیصلہ اس اصول کو واضح کرتا ہے کہ اگر پاکستانی شہری بیرونِ ملک جرم کرتا ہے، تو بھی پاکستان کی عدالتیں اسے انصاف کے کٹہرے میں لا سکتی ہیں۔ امانت میں خیانت جیسے جرائم میں نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی قانونی پہلو بھی مدنظر رکھے جاتے ہیں۔
یہ فیصلہ انصاف کی بالادستی اور مجرموں کے احتساب کے حوالے سے ایک مضبوط پیغام ہے کہ جرم کہیں بھی ہو، قانون سے بچنا ممکن نہیں۔
Combined study and critical analysis of S.3 PPC, 188 and 403 CrPC leads to an inference that if a person commits any offence in a foreign country, which is also an offence under the Pakistan Penal Code, he may be tried or convicted in Pakistan in the same manner as if the offence was committed within Pakistan.
Section 188 of Cr.P.C. does not create any bar to the registration of a crime report under section 154 of Cr.P.C. in Pakistan for an offence committed by a citizen of Pakistan abroad.
So far as Section 403 of Cr.P.C. is concerned, the protection available there under can be claimed by an accused only if he has been tried for a crime by a court of competent jurisdiction and he is thereafter convicted or acquitted of the charge and that conviction/acquittal remains intact.
Record speaks that when petitioner committed embezzlement in Masqat/Oman, he immediately transferred certain amounts into his bank account at Pakistan and bank account of his wife. Petitioner, being an employee of complainant was entrusted with cash, diamond ring and bank card, which he misappropriated and converted the same to his own use in flagrant violation of his duties as an employee. He breached the trust of his employer/complainant. Ingredients of offence of criminal breach of trust prescribed in section 405 of PPC were fully attracted.
Crl. Misc. No.7151-B/2025.
Muhammad Irshad Vs State
2025 LHC 1359
No comments:
Post a Comment