دیہاتی خاتون ہونے کی بنیاد پر فروخت کا معاہدہ کالعدم نہیں ہو سکتا — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض فروخت کنندہ کے دیہاتی خاتون ہونے کی بنیاد پر فروخت کا معاہدہ کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ فیصلہ سول رویژن نمبر 24-25 میں سنایا جس کا عنوان "محمد رفیق بنام مسماۃ ثریا بی بی" تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس انوار حسین نے 12 مارچ 2025 کو سنایا۔
کیس کا پس منظر
یہ مقدمہ زمین کی فروخت کے ایک معاہدے سے متعلق تھا جس میں درخواست گزار محمد رفیق نے مسماۃ ثریا بی بی سے زمین خریدی۔ فروخت کے معاہدے پر دو گواہوں کے دستخط موجود تھے، جنہوں نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر معاہدے کی توثیق کی۔
مدعیہ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ چونکہ فروخت کنندہ ایک دیہاتی اور غیر تعلیم یافتہ خاتون ہے، اس لیے معاہدہ دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ معاہدہ ریونیو افسران کی ملی بھگت سے کروایا گیا ہے۔
عدالتی دلائل اور فیصلہ
عدالت نے شواہد اور گواہوں کے بیانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دونوں گواہوں نے واضح طور پر بیان دیا کہ فروخت کا معاہدہ مکمل طور پر رضا مندی کے ساتھ کیا گیا تھا اور اس میں کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی شامل نہیں تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ معاہدے کی صداقت کو چیلنج کرنے کے لیے صرف فروخت کنندہ کے دیہاتی یا غیر تعلیم یافتہ ہونے کا جواز کافی نہیں ہے۔ اگر معاہدے کی تصدیق کرنے والے گواہان موجود ہوں اور دھوکہ دہی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو تو معاہدے کو قانونی تسلیم کیا جائے گا۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ قانونی معاہدے کو چیلنج کرنے کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیہاتی یا غیر تعلیم یافتہ ہونے کی بنیاد پر معاہدے کو مشکوک نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ عدالتی نظیر نہ صرف زمین کے تنازعات بلکہ دیگر معاہداتی مقدمات کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
نتیجہ
لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ انصاف کی فراہمی اور قانونی اصولوں کی پاسداری کی عمدہ مثال ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو دیہاتی یا غیر تعلیم یافتہ افراد کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر معاہدے کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
عدالت نے اس فیصلے سے واضح کیا کہ قانون کے اصول سب کے لیے برابر ہیں اور کسی کی حیثیت یا تعلیمی پس منظر کی بنیاد پر انصاف کے تقاضے تبدیل نہیں ہو سکتے۔
The core question that requires adjudication is whether the fact that the vendor-respondent is a villager lady alone can be a ground for upending the sale transaction, when both the marginal witnesses have appeared and corroborated the stance of the purchaser?petitioner, and no connivance of the revenue officials concerned could be established? Held that in presence of overwhelming evidence supporting the validity of the transaction and in absence of any substantiated claim of fraud, the fact that the vendor is a villager lady alone cannot be made a ground for disputing the sale transaction.
Civil Revision-24-25
MUHAMMAD RAFIQUE VS
MST. SURIYA BIBI
Mr. Justice Anwaar Hussain
12-03-2025
2025 LHC 1180
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.
No comments:
Post a Comment