Translate

3/30/2025

Compromise in Cheque Dishonoring Cases: A Landmark Decision by Lahore High Court






چیک ڈس آنرنگ اور راضی نامہ: لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

چیک ڈس آنرنگ (چیک باؤنس) کے مقدمات میں راضی نامہ کی اہمیت اور قانونی حیثیت ہمیشہ سے ایک پیچیدہ مسئلہ رہی ہے۔ حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک اہم فیصلے (PLD 2020 Lahore 97) نے اس معاملے میں واضح رہنمائی فراہم کی ہے۔ جسٹس انوار الحق پنوں نے اپنے فیصلے میں دفعہ 489-F، تعزیرات پاکستان کے تحت ضمانت کے مراحل (قبل از گرفتاری اور بعد از گرفتاری) میں راضی نامہ کی شرائط اور ضوابط کو جامع انداز میں بیان کیا ہے۔

راضی نامہ کی قانونی حیثیت:

عدالت نے قرار دیا کہ راضی نامہ صرف اسی صورت میں قابل قبول ہوگا جب وہ تحریری اور دونوں فریقین کے دستخط یا انگوٹھے کے نشانات کے ساتھ مکمل ہو۔ اگر رقم کی ادائیگی کسی مجاز شخص کے ذریعے ہو رہی ہے تو اس کی تصدیق بھی ضروری ہے۔

ضمانت کے مراحل اور راضی نامہ:

اگر ملزم جیل میں ہو تو بعد از گرفتاری ضمانت کے دوران ملزم کے وکیل یا نامزد کردہ شخص کا بیان بھی قلمبند کیا جائے گا۔ عدالت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ ضمانت کی رعایت اسی صورت میں برقرار رہے گی جب ملزم راضی نامہ کی شرائط پر مکمل عمل کرے گا۔

ادائیگی کی پابندی اور رعایت:

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ملزم کو راضی نامہ کے مطابق طے شدہ رقم یا قسطیں مقررہ تاریخ تک ادا کرنی ہوں گی۔ اگر کسی ہنگامی صورت میں تین دن کی مہلت درکار ہو تو وہ بھی دی جا سکتی ہے۔ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو ضمانت کی رعایت خود بخود منسوخ تصور ہوگی، اور مدعی کو دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

راضی نامہ کی خلاف ورزی اور قانونی نتائج:

اگر ملزم راضی نامہ کی شرائط پوری نہ کرے تو یہ ضمانت کا غلط استعمال تصور ہوگا۔ ایسی صورت میں مدعی ٹرائل کورٹ میں متفرق درخواست دائر کرکے ملزم کی دوبارہ گرفتاری کی درخواست کر سکتا ہے۔

مقدمے کے اختتام کا طریقہ:

اگر عدالت کو یقین ہو جائے کہ راضی نامہ کی تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں، تو وہ مقدمے کو ختم کرنے کا حکم دے سکتی ہے، چاہے یہ درخواست پر ہو یا عدالت کی اپنی کارروائی پر۔

نتیجہ:

لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے چیک ڈس آنرنگ کے مقدمات میں راضی نامہ کی حیثیت کو قانونی طور پر مضبوط بنا دیا ہے۔ اب عدالتوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ضمانت نامے میں راضی نامہ کی تمام شرائط کو واضح کریں اور ملزم کی طرف سے راضی نامہ کی خلاف ورزی کی صورت میں ضمانت خود بخود منسوخ تصور ہو۔
یہ فیصلہ نہ صرف قانونی ماہرین بلکہ کاروباری طبقے کے لیے بھی اہم ہے، جو چیک کے لین دین کے دوران ممکنہ قانونی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

جعلی چیک دینے کے بعد راضی نامہ ۔
تازہ ترین عدالتی فیصلہ
Compromise Deed - راضی نامہ کی شرائط
Dishonring of cheque - Grant of pre or post arrest Bail.
It was held in Salman Khalid vs. The State etc. reported in PLD 2020 Lahore 97, decided by Anwaar-ul-Haq Pannun, Judge, that -
High Court provided guidelines for proceeding with cases u/s 489-F, PPC, involving compromise at Precompliance of its terms and conditions will amount to breach of commitment and misuse of concession of Bail by the accused for the period he enjoy the said concession in the form of liberty instead of facing the rigors of jail.
مدعی ضمانت منسوخی کی بجائے ٹرائل کورٹ کو متفرق درخواست دے کہ راضی نامہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے،اور ٹرائل کورٹ ملزم کو دوبارہ گرفتارکرواسکتی ہے۔
(vii) The complainant shall not be obliged to file a formal application for cancellation of Bail u/s 497(5) CrPC either before the trial Court or before any higher Court which had passed the Bail granting order. However, the complainant, in case of default in making payment by the accused, may file only a miscellaneous application before the trial Court inviting its attention towards the default made by the accused, thereupon, learned trial Court shall pass an order for committing the accused to custody.
یہ راضی نامہ کی ایک علیحدہ قسم کے طور پرٹرائل کورٹ ریکارڈ مرتب کرے۔
(viii) All the trial Courts seized with the trial/ proceedings for the offence u/s 489-F, PPC, shall prepare a separate category of compromise cases with some special identity so that the case may be dealt with, in terms of Bail granting order.
اگرراضی نامہ پر موثر عمل ہوتاہے، تو کاروائی مقدمہ اختتام کوپہنچ سکتی ہے۔ایسا عدالت درخواست پربھی کرسکتی ہے، اور ازخود کاروائی پربھی ایسا قدم اُٹھاسکتی ہے۔
(ix) In case, the trial Court, is satisfied that the terms of the compromise have been fulfilled and acted upon, the Court, on its own motion or on the application of either party shall give effect to the compromise, by way of termination of proceedings in the case. (As received ) .


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

No comments:

Post a Comment

Featured Post

Court marriage karne ka tareeka | court marriage process in Pakistan.

  What is the Court marriage meaning Court marriage typically refers to a legal union between two individuals that takes place in a co...