Translate

4/03/2025

The Importance of Verifying Attorney’s Authority in Specific Performance Cases: An Analysis of 2024 SCMR 1106"






عنوان: "خصوصی کارکردگی کے مقدمے میں وکیل کی تصدیق کی اہمیت: 2024 SCMR 1106 کا تجزیہ"

مقدمہ:

پاکستان میں قانونی نظام میں جب بھی کسی فرد کو کسی معاہدے کی تکمیل کے لیے عدالت کا رخ کرنا پڑتا ہے، تو اس کا عمل بالکل مخصوص اور مستند قانونی طریقہ کار کے تحت چلنا ضروری ہوتا ہے۔ حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے، 2024 SCMR 1106 (ایجاز احمد بمقابلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، پسروڑ) نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ مقدمات میں وکیل کی شناخت اور اس کے اختیار کی تصدیق نہ کرنا کس طرح قانونی فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

مقدمے کی تفصیل:

یہ کیس ایک خاص زبانی معاہدے کی مخصوص کارکردگی (Specific Performance) کے لیے دائر کیا گیا تھا، جس میں ایجاز احمد نے 25 جنوری 1996 کو مدعا علیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ درخواست میں یہ کہا گیا کہ مدعا علیہ نے زمین بیچنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ معاہدہ مکمل کرنے سے انکار کر رہا تھا۔ عدالت نے 29 جنوری 1996 کو مدعا علیہ کے وکیل کے بیان پر مقدمہ ڈگری کر دیا۔

مگر جب مدعا علیہ کو اس فیصلے کا علم ہوا، تو اس نے درخواست دائر کی کہ وکیل کی تصدیق نہیں کی گئی تھی اور اس کے وکالت نامے کی جانچ نہیں کی گئی تھی۔ اس پر سپریم کورٹ نے مقدمہ کا تجزیہ کیا اور یہ فیصلہ دیا کہ وکیل کی تصدیق کرنا ضروری ہے تاکہ یہ یقین دہانی کی جا سکے کہ وہ واقعی مدعا علیہ کا قانونی نمائندہ ہے اور اس کے پاس اس نوعیت کے معاہدے پر دستخط کرنے کا اختیار ہے۔

عدالت کا فیصلہ:

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ جس وقت مقدمہ کو ڈگری دی گئی، اس وقت وکیل کی شناخت اور اس کے اختیار کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے اہم قانونی معاملات میں وکیل کی تصدیق ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ مدعا علیہ کی طرف سے عدالت میں پیش ہو رہا ہے اور اس کے پاس معاہدہ کی تکمیل پر دستخط کرنے کا اختیار موجود ہے۔ اگر وکیل کا وکالت نامہ درست نہیں تھا یا اس کے اختیار کی تصدیق نہیں کی گئی، تو مقدمہ کا فیصلہ غیر قانونی ہو گا۔

کیس کے اثرات:

یہ فیصلہ قانونی کمیونٹی میں وکالت نامے کی تصدیق اور وکیل کی شناخت کے اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ وکیل کا بیان مقدمہ کی ڈگری کا سبب بن سکتا ہے، مگر اس کے اختیار کا تصدیق کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اس کیس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی قانونی عمل میں احتیاط اور مکمل تصدیق ضروری ہے۔

نتیجہ:

سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عدلیہ کو تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔ وکیل کی شناخت اور اس کے اختیار کی تصدیق کرنا ایک اہم قانونی ضرورت ہے، جو کسی بھی مقدمے میں انصاف کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

2024 SCMR 1106
EJAZ AHMAD vs ADDITIONAL DISTRICT JUDGE, PASROOR

S. 12 ---Civil Procedure Code (V of 1908), S. 12 (2)---Specific performance of oral agreement to sell---Suit decreed on the purported statement of the defendant's attorney---Legality---Suit seeking specific performance of the oral agreement was filed on 25 January 1996 and summons were issued to the defendant for 19 February 1996---But, on 29 January 1996, a person came forward stating that he was the attorney of the defendant and that he had no objection if the suit was decreed---Suit was accordingly decreed---Defendant on coming to know of the decree filed an application under section 12 (2), Code of Civil Procedure, 1908 which was allowed by the trial Court, and such order was maintained upto the High Court---Validity---Suit filed by the plaintiff (petitioner) should never have been decreed---Suit was filed on 25 January 1996 and the return date for the summons issued to the defendant was 19 February 1996, however, only after four days, that is, on 29 January 1996, the suit was decreed---No application for ante-dating the date, that is, 19 February 1996, was submitted in the suit, and no order was passed ante-dating the date already fixed---Order of 29 January 1996 stated that the counsel for the defendant was in attendance, but it was not explained when service of summons was effected and who engaged the counsel to represent him, nor who had signed his vakalatnama---Suit was decreed on the statement of the purported attorney, therefore, it was incumbent upon the Judge to satisfy himself as to his identity, to ensure that he was the duly constituted attorney of the defendant and that the power of attorney authorized the attorney to agree to the suit being decreed, but none of these aspects were noted by the Judge---Stated power of attorney was also not exhibited, and, if it's photocopy was produced then the Judge had to see the original thereof and exhibit it, after comparing it with the original and noting that it was a true copy thereof---Since none of the aforesaid aspects were considered the judgment and decree dated 29 January 1996 was not sustainable---Application of defendant under section 12 (2), C.P.C. was maintainable and was rightly allowed---


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

No comments:

Post a Comment

Featured Post

Court marriage karne ka tareeka | court marriage process in Pakistan.

  What is the Court marriage meaning Court marriage typically refers to a legal union between two individuals that takes place in a co...