Translate

4/03/2025

The Right of Dower and Property: A Landmark Decision by the Supreme Court of Pakistan"






حق مہر اور جائیداد کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک مختصر آرٹیکل درج ذیل ہے:

حق مہر اور جائیداد: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیا جس میں نکاح نامے میں جائیداد کی تفصیل نہ ہونے کے باوجود زوجہ کو جائیداد کی متبادل قیمت دینے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ اس بات پر مبنی تھا کہ اگر جائیداد کی شناخت کے لیے مکمل تفصیل فراہم نہ کی گئی ہو تو اس کی قیمت زوجہ کو دی جا سکتی ہے۔

حق مہر کی اہمیت: حق مہر ایک اہم مالی حق ہے جو نکاح کے وقت زوجہ کو دیا جاتا ہے۔ اس کا تعلق نکاح کی قانونی حیثیت اور زوجہ کے مالی تحفظ سے ہوتا ہے۔ حق مہر میں جائیداد شامل ہو سکتی ہے، جس کا تعین نکاح کے وقت کیا جاتا ہے۔ اگر جائیداد کی تفصیل یا شناخت نہ ہو، تو اس کی قیمت یا متبادل رقم کو حق مہر کے طور پر دیا جا سکتا ہے۔

فیصلے کی تفصیلات: سپریم کورٹ نے اس کیس میں کہا کہ اگر جائیداد کی تفصیل نکاح نامے میں نہ ہو، تو ٹرائل کورٹ کو اس جائیداد کی قیمت کا تعین کرنے کے لیے ریونیو افسر کو مقرر کرنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں زوجہ کو جائیداد کی متبادل قیمت دی جا سکتی ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے زوجہ کے حق میں فیصلہ دیا اور اس بات کو تسلیم کیا کہ جائیداد کی شناخت کی کمی کے باوجود زوجہ کو اس کا مالی حق ملنا چاہیے۔

قانونی اثرات: یہ فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ حق مہر کے ضمن میں جائیداد کی عدم تفصیل کے باوجود، اس کی قیمت کو متبادل طور پر زوجہ کو دیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ جائیداد کی قیمت کا تعین کرنے کے لیے ایک موثر طریقہ کار بھی فراہم کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حق مہر کے حوالے سے جائیداد کی تفصیل کی کمی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

نتیجہ: یہ فیصلہ پاکستان میں حق مہر کے متعلق ایک اہم پیش رفت ہے، جو زوجہ کے مالی حقوق کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جائیداد کی عدم تفصیل کی صورت میں بھی عدالتوں نے اس کے متبادل قیمت کے ذریعے زوجہ کے حق کو تسلیم کیا ہے، جو کہ قانونی نقطہ نظر سے اہمیت رکھتا ہے۔

یہ فیصلہ 2021 اور 2023 کے مقدمات میں بھی دوبارہ تسلیم کیا گیا، جس سے جائیداد کے حقوق کے حوالے سے ایک واضح قانونی اصول قائم ہوا۔


PLD 2011 SC 221
The claim of wife to the extent of possession of an immovable property was rejected by the courts below on the ground that no description of the property was given in the nikahnama. While settling aside concurrent findings of courts below, SC of Pakistan was pleased to observe that the trial court should direct a member of revenue hierarchy to determine average price of property per kanal in the area. It was also observed that if there is no sufficient description leading to its identification then its alternative price can be awarded to the wife. This view of SC of Pakistan was reiterated and reaffirmed in 2021 ylr 287 and 2023 ylr 2059.



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Legal Implications of Non-Compliance with Court Fee Payment and Automatic Rejection of Plaint




عدالتی فیس کی کمی کی عدم ادائیگی اور درخواست کی خودبخود مسترد ہونے کی قانونی حیثیت

عدالتی عمل میں فیس کی ادائیگی ایک اہم عنصر ہے، جس کا مقصد درخواست کی قانونی حیثیت کو مستحکم کرنا ہے۔ اگر کسی درخواست میں عدالت فیس کی کمی ہو اور اسے مقررہ وقت میں پورا نہ کیا جائے تو عدالت کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ درخواست کو خودبخود مسترد کر دے۔ تاہم، عدالت کو اس عمل میں کچھ احتیاطیں برتنا ضروری ہیں، تاکہ کسی فریق کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچے۔

کیس کی تفصیلات

یہ کیس ایک ایسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جہاں مدعی نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی مگر عدالت فیس کی کمی کے باعث اس کی درخواست پر کارروائی نہیں کی جا رہی تھی۔ 27 اپریل 2010 کو، trial court نے مدعی کو 13 مئی 2010 تک فیس کی کمی پوری کرنے کا حکم دیا اور واضح طور پر کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو درخواست خود بخود مسترد ہو جائے گی۔

جب 13 مئی کو فیس کی ادائیگی نہیں کی گئی، تو trial court نے بغیر کسی معقول وجہ کے مزید وقت دے دیا۔ اس فیصلے کو مراجعتی عدالت اور ہائی کورٹ دونوں نے غلط قرار دیا اور کہا کہ عدالت کو پہلے ہی مشروط حکم جاری کرنے کے بعد مزید وقت دینے کا اختیار نہیں تھا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو جائز قرار دیا کہ trial court نے بغیر کسی معقول سبب کے وقت میں توسیع دی۔ عدالت نے یہ واضح کیا کہ اگر کسی حکم کی تعمیل مقررہ وقت میں نہ کی جائے، تو عدالت کو اس کے بعد فوراً فیصلہ کرنا چاہیے۔ عدالت کو اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اگر فریق نے وقت پر عمل نہ کیا ہو تو کیا کوئی معقول وجہ موجود تھی۔ اس کے بغیر مزید وقت دینا قانونی طور پر درست نہیں ہوتا۔

قانونی نتائج

اس کیس میں سپریم کورٹ نے trial court کی طرف سے وقت کی توسیع کو غیر مناسب قرار دیا اور کہا کہ عدالت کو صرف اس صورت میں وقت بڑھانے کا اختیار ہے جب فریقِ مخالف مناسب وجوہات فراہم کرے۔ یہ کیس ایک اہم قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ عدالت کو اپنے فیصلوں میں توازن اور معقولیت کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ فریقین کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ ہو۔


Court fee---Deficiency in payment---Rejection of plaint---Direction of Trial Court to make good Court fee deficiency by next date of hearing---Non-compliance by plaintiff---By it order dated 27.04.2010 ('the Order') Trial Court allowed the plaintiff time to make the Court fee deficiency good with the rider that, in case of non-payment of Court fee by the next date of hearing, the plaint would be deemed as rejected---On the next date of hearing i.e. 13.05.2010, without any request from the plaintiff the Trial Court granted the plaintiff a last opportunity to deposit the Court fee---Revisional Court , as well as the High Court , both concurrently held that the Order granting time for making good the deficiency was a conditional order and, since the order was not complied with, the plaint was deemed to have been rejected automatically and thereafter the Trial Court could not extend the time and had become functus officio---Legality---On 27.04.2010, time was allowed under Section 149, C.P.C. by the Trial Court to pay the Court fee by 13.05.2010, failing which the plaint shall be deemed to have been rejected, however on 13.05.2010, although the Court fee stood unpaid, the Trial Court extended the time for payment of Court fee without even fixing any time frame in the extension order, and that too without any oral or written request showing any plausible or sufficient cause by the plaintiff/petitioner for not complying with the Order within the stipulated timeframe---Trial Court , without considering the sanctity of its previous order in which the non-compliance of the order impacted an automatic rejection of the plaint and without enquiring or questioning the reasons for non-compliance, extended the time in a slipshod manner on its own motion without realizing the repercussions and consequences of its earlier Order---By passing a conditional order, the Trial Court had not only surrendered and abandoned its jurisdiction of enlargement of time under Section 148, C.P.C., but also closed the doors for the plaintiff in the event of non-compliance of the Order---Supreme Court deprecated practice and tendency of passing such conditional orders and directed that if any act is not complied within the time stipulated in the C.P.C. or time granted by the Court , the most appropriate legal action or step would be for the Court to take up the matter at the end of the expiry period and pass an appropriate order for non-compliance and if the party at default applies for the enlargement of time to comply with the direction(s) due to some sufficient cause(s) including force majeure circumstances which prevented compliance within time, then of course on such request the Court may further extend or enlarge time for compliance---Trial Court had passed the Order for enlargement of time with a perfunctory approach which was unjustified and unwarranted, hence the Revisional Court rightly set aside the Order and the High Court rightly maintained the same---
Kh. MUHAMMAD FAZIL VS MUMTAZ MUNNAWAR KHAN NIAZI
2024 SCMR 1059


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

The Jurisdiction and Authority of Family Courts in Pakistan: In Light of the Nasir Malik Case




پاکستان میں خاندانی عدالتوں کی اختیارات اور نگرانیاں: ناصر ملک کیس کی روشنی میں

پاکستان میں خاندانی عدالتوں کا اہم کردار ہے، خاص طور پر بچوں کے نگہداشت، مہینے کی اخراجات، اور دیگر اہم معاملات کے فیصلوں میں۔ ان عدالتوں کا مقصد خاندانی تنازعات کو جلدی اور مؤثر طریقے سے حل کرنا ہے تاکہ بچوں اور خواتین کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔ حالیہ سپریم کورٹ کا فیصلہ "ناصر ملک کیس" اس بات کو واضح کرتا ہے کہ خاندانی عدالتیں اپنے دائرہ اختیار میں بچوں کی ماہانہ اخراجات میں اضافے کے حوالے سے فیصلے کر سکتی ہیں، اور اس سلسلے میں سی پی سی (Civil Procedure Code) کی روایتی شرائط ہمیشہ لاگو نہیں ہوتیں۔

کیس کا پس منظر: ناصر ملک کے بچوں نے 2008 میں خاندانی عدالت میں مہینے کی اخراجات کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے انہیں 8,000 روپے ماہانہ خرچ دینے کا حکم دیا، جو ہر سال 10% بڑھا دیا گیا۔ مگر 2012 میں بچوں کی والدہ نے عدالت میں ایک اور درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے بچوں کی تعلیم اور دیگر اخراجات کے بڑھنے کا ذکر کیا اور مزید اضافے کی درخواست کی۔ عدالت نے یہ درخواست منظور کی اور بچوں کی اخراجات 15,000 روپے ماہانہ فی بچہ کر دیے۔

تاخیر اور اپیل: ناصر ملک نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، لیکن وہ 144 دن کی تاخیر سے کی گئی۔ ان کی تاخیر کا جواز یہ تھا کہ ان کے وکیل سعودی عرب میں حج ادا کرنے گئے تھے، اس لیے اپیل وقت پر دائر نہ ہو سکی۔ تاہم عدالت نے اس جواز کو تسلیم نہیں کیا اور اپیل مسترد کر دی۔

خاندانی عدالتوں کا دائرہ اختیار: اس کیس میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ خاندانی عدالتوں کا دائرہ اختیار بہت وسیع ہے اور وہ اپنے اختیارات کے مطابق بچوں کی اخراجات میں اضافے کی درخواستوں پر فیصلہ کر سکتی ہیں۔ خاندانی عدالتیں اپنے طور پر طریقہ کار ترتیب دے سکتی ہیں، اور سی پی سی کے تمام اصول و ضوابط ان پر لاگو نہیں ہوتے۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب ایک حکم خاندانی عدالت کے ذریعے جاری ہو چکا ہو اور اس میں کمی ہو، تو اس کے لیے نیا مقدمہ دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

فیصلے کی اہمیت: یہ فیصلہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ خاندانی عدالتوں کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ بچوں کے حق میں ضروری اقدامات کریں اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اخراجات میں اضافہ کر سکیں۔ یہ فیصلہ خاندانی عدالتوں کی آزاد حیثیت اور ان کے کردار کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہر دن کی تاخیر کو معاف نہیں کیا جا سکتا اور اپیل کا فیصلہ بروقت ہونا چاہیے۔

نتیجہ: ناصر ملک کیس نے پاکستان میں خاندانی عدالتوں کی اہمیت اور دائرہ اختیار کو مزید واضح کیا۔ اس کیس سے یہ سیکھا جا سکتا ہے کہ خاندانی عدالتوں میں درخواستوں کی فوری سماعت اور جلد فیصلہ ضروری ہے تاکہ بچوں کے حقوق اور ضروریات کا تحفظ کیا جا سکے۔ اس فیصلے نے یہ ثابت کیا کہ عدالتیں قانون کی تشریح میں لچکدار ہو سکتی ہیں، خاص طور پر جب بات بچوں کی دیکھ بھال اور نگہداشت کی ہو۔


2016 S C M R 1821
[Supreme Court of Pakistan]

Present: Iqbal Hameedur Rahman, Manzoor Ahmad Malik and Ijaz-ul-Ahsan, JJ

Lt. Col. NASIR MALIK---Petitioner

Versus

ADDITIONAL DISTRICT JUDGE, LAHORE and others---Respondents

Civil Petition No. 1428-L of 2016, decided on 14th July, 2016.

(On appeal against the order dated 30-3-2016 passed by the Lahore High Court, Lahore, in W.P. No.7222 of 2016)

(a) Limitation Act (IX of 1908)---

----S. 5---Appeal, filing of---Condonation of delay---Sufficient cause---Counsel for appellant out of country for performance of Hajj---Appeal was filed with a delay of 144 days---Each day of delay had to be explained---Delay in filing present appeal was not 30/40 days during which Hajj was performed, rather it was a delay of 144 days, therefore, the Appellate Court had rightly dismissed the appeal on limitation.

(b) Family Courts Act (XXXV of 1964)---

----S. 5 & Sched.---Civil Procedure Code (V of 1908), S. 151---Maintenance allowance for minors, enhancement of---Family Court, powers of---Scope---Order for maintenance allowance for minors was passed by Family Court---Mother of minors sought enhancement in maintenance allowance through filing an application under S. 151, C.P.C. before the Family Court---Objection of father that enhancement in maintenance allowance could only be sought by filing a separate suit---Validity---Provisions of Civil Procedure Code, 1908 were not stricto sensu applicable to the proceedings under the Family Courts Act, 1964, as such the Family Court was competent to adopt its own procedure---Family Court had exclusive jurisdiction relating to maintenance allowance and the matters connected therewith---Once a decree by the Family Court in a suit for maintenance (for minors) was granted, thereafter, if the granted rate for monthly allowance was insufficient and inadequate, in that case, institution of fresh suit was not necessary rather the Family Court may entertain any such application (under S. 151, C.P.C.) and if necessary make alteration in the rate of maintenance allowance--- Objection was rejected accordingly.

M. Abdus Sattar Chughtai, Advocate Supreme Court and Mrs. Tasneem Amin, Advocate-on-Record for Petitioner.

Aish Bahadur Rana, Advocate Supreme Court for Respondents Nos.2 - 4.

Date of hearing: 14th July, 2016.

JUDGMENT

IQBAL HAMEEDUR RAHMAN, J.---Through this petition for leave to appeal, the petitioner has called in question the order dated 30.03.2016 passed by the Lahore High Court, Lahore, in W. P. No.7222/2016, whereby the said writ petition filed by the petitioner has been dismissed in limine.

  1. The concise facts giving rise to the instant petition are that minors respondents Nos. 3 and 4 (hereinafter to be referred as "the respondents") filed a suit for recovery of maintenance allowance in the year 2008 which was decreed by the Family Court vide order dated 24.02.2010 and they were held entitled to maintenance allowance @ Rs.8,000/- per month each w.e.f. June, 2007. The maintenance allowanced was allowed to respondent No. 3 till he attains the age of majority and to respondent No. 4 till she is married, along with 10% annual increase. Against the said order, the petitioner preferred an appeal before the appellate Court, which was dismissed vide judgment dated 25.02.2011. Thereafter, the respondents filed an application before the Family Court in the year 2012 and sought enhancement of their maintenance allowance on the ground that they are now grown ups and studying in Beacon House School in class 5 and 3 respectively and their actual average monthly expenditure on account of school fees, uniform, Qari sahib fee, transport, foods and other necessities, etc. are higher than the maintenance allowance due to rise in inflation. It was further asserted in the application that the petitioner is serving in the Pakistan Army as a Major and is getting a salary of Rs.81,311/- per month and he could easily afford the increase sought for by the respondents. In addition to the same the respondents also prayed in the application that a direction may be issued to the petitioner/judgment debtor to pay balance decretal amount (arrears of maintenance allowance i.e., Rs.972,184/-) without further delay. Upon filing of the said application, summons were issued to the petitioner in accordance with law as well as through publication in the newspaper daily "Pakistan", but inspite of the same he did not appear. Consequently, he was proceeded ex parte on 06.07.2014 and the learned Family Court after recording ex parte evidence of the respondent allowed the said application vide judgment dated 16.04.2015 by holding as under:-

"7. Perusal of the record transpires that in support of her claim mother of the petitioners also produced pay slip of respondent/judgment debtor as Ex.P-2 perusal of same transpires that it is written upon pay slip that gross salary/total pay and allowance of respondent/judgment debtor in 2014 is Rs.1,13,442/- and after certain monthly deductions i.e. Rs.32,538/- his net salary is Rs.80,904/-. Record further demonstrates that mother of petitioners submitted fee slips of minors/petitioners as Ex.P-3 and Ex.P-4 which established that minors/petitioners are students of Beacon House School System and fee of two months of Malahat Nasir is Rs.22,880/- and fee of two months of Wasim Malik is Rs.24,240/-. Record demonstrates that previous decree was passed on 24.02.2010. Perusal of order/judgment and decree dated 24.02.2010 shows that maintenance allowance of minors was fixed @ Rs.8,000/- per month per head with 10% annual enhancement. Now the petitioners have come to this court on the ground of raising inflation and prayed for enhancement of maintenance allowance as per present commodity ratio. Record further transpires that minors are school going children and it is legal as well as moral right of every minor/child that he be brought up in healthy atmosphere and be brought up with the feelings of self respect along with educational necessities and it is duty of the father to brought up his children as per his financial status. I relied upon "2005 CLC 1913" it was held by the Worthy Appellate Court that enhancement was granted upon the rising inflation, hence relying upon above citations and evidence produced by the petitioner, petitioner has successfully succeed to prove her contention through oral as well as documentary evidence. Hence maintenance allowance decreed in favour of petitioners Nos. 1 and 2 @ Rs.8,000/- per month per head with 10% annual increase vide judgment and decree dated 24.02.2010 is hereby enhanced to the tune of Rs.15,000/- per month per head with from filing of this petition till his attaining of age of majority of petitioner No. 1 and till her marriage of petitioner No. 2 with 10% annual enhancement. 10% enhancement shall be calculated after passage of one year of date of decision."

Being aggrieved, the petitioner filed a time barred appeal before the appellate Court on 07.09.2015 on the ground that the respondents had fraudulently and unlawfully filed the application under section 151, C.P.C. for enhancement of maintenance allowance without notice and knowledge of the petitioner during the pendency of W. P. No.7517/2011, which was filed by him and pending adjudication before the High Court, as such enhancement could not be allowed by the Family Court. The said appeal was dismissed by the appellate Court vide judgment and decree dated 21.12.2015 by holding as under:-

"6. Perusal of record shows that the appellant filed an appeal before District Judge, Lahore against judgment and decree dated 24.02.2010 which was dismissed on 25.02.2011. Thereafter appellant filed a Writ Petition No. 7517/2011 in Honorable Lahore High Court, Lahore in which Honorable Lahore High Court, Lahore passed the order with the observations:-

"Judgment and decree of learned trial court is suspended with the direction to the present appellant to deposit Rs.1,06,000/- in trial court and further to pay Rs.5,000/- to each minor per month.

  1. It further shows that Hon'ble Lahore High Court, Lahore also observed that: -

"If the petitioner has not complied with the above mentioned order dated 16.06.2011 in its letter and spirit then the learned Executing Court shall proceed further in accordance with law. Anyhow, if the above mentioned order has been complied with by the petitioner, in its letter and spirit, then, interim stay already granted by this court shall continue till the next date of hearing".

  1. Examination of record shows that present appellant had not deposited the maintenance allowance of the minors in executing court and he was proceeded against ex parte on 19.07.2012 and interim stay was vacated due to non deposit of maintenance and executing court issued Robkar for attachment the salary of judgment debtor. Record also shows that counsel for the judgment debtor appeared in the executing court on 20.09.2013 and submitted his fresh power of attorney. It is evident from plain reading of order sheet that on 13.12.2013 appellant appeared in person and deposited Rs.2,51,000/- with the assurance that he will regularly deposit monthly maintenance of minors in the account of mother of the minors. It is also on the record that appellant also moved an application for setting aside ex parte to proceeding order which was dismissed due to non-prosecution.

  2. Perusal of record also depicts that respondent No. 2 in application under section 151, C.P.C. produced pay slip of appellant/judgment debtor as Exh.P-2 which shows that net salary of appellant/judgment debtor is Rs.80,904/-. It is further shows that respondent No. 2/mother of petitioners also produced fee slips of respondents Nos. 3 and 4/petitioners as Exh.P-3 and Exh.P-4 which clearly shows that respondents Nos. 3 and 4/petitioners are students of Beacon House School System and fee of two months of Malahat Nasir is Rs.22,800/- and fee of two months of Wasif Malik is Rs.24,240/-. Keeping in view the facts and circumstances of the case and evidence on record order of the learned trial court is in accordance with law, therefore finding of learned trial court is hereby confirmed.

  3. It is pertinent to mention here that appellant moved this appeal on 07.09.2015 and also submitted an application under section 5 of Limitation Act with the contention that counsel of the appellant proceeded to perform Hajj and due to the reason he could not file the instant appeal within time.

  4. From perusal of record it shows that appellant filed this appeal with a delay of 144 days from passing the impugned order and no plausible reason has been put forward for condonation of delay. Mere an assertion that counsel for the petitioner Malik Abdul Sattar Chughtai proceeded to perform Hajj and due to the reason he could not file instant appeal within time cannot constitute a plausible ground. Keeping in view section 5 of Limitation Act each day has to be explained whereas the delay of 144 days has not been explained."

Being dissatisfied, the petitioner then approached the High Court by filing W. P. No. 7222/2016, which has been dismissed in limine vide impugned order, hence this petition.

  1. The learned counsel for the petitioner contended that the respondents could not have sought enhancement of maintenance allowance by filing application under section 151, C.P.C. rather they should have filed a separate suit. It was further contended that the enhancement is not in consonance with the financial status of the petitioner. It was also contended that the petitioner through his second marriage has four other children, as such the increase in the maintenance allowance of the respondents is unjustified.

  2. Heard. We have gone through the impugned order as well as the judgments/orders of the Courts below and have also perused the material available on the record.

  3. We have noticed the contumacious conduct of the petitioner from the very outset. Inspite of passing of judgment and decrees in favour of the respondents, the petitioner has avoided payment of the same, which constrained the respondents to file an application for the recovery of arrears of maintenance allowance to the tune of Rs.972,184/- as well as enhancement. Thereafter when respondents' application was accepted, the appeal of the petitioner was dismissed and he approached the High Court by filing a writ petition, a direction was given by the High Court to the petitioner, consequent thereto he made a paltry payment to the respondents. It has also been observed by us that inspite of issuance of summons in accordance with law as well as through publication in the newspaper, the petitioner avoided appearing before the Family Court as such the Family Court was constrained to proceed ex parte and allowed enhancement @ Rs.15,000/- per month per head. Thereafter, the petitioner filed a time barred appeal against the said order and the reason for the delay was stated that his particular counsel was out of country to perform Hajj due to which the appeal could not be filed in time. Such reasons have never been considered by the Courts as sufficient cause for condoning the delay. Moreover, each day of the delay has to be explained. It was not a delay of 30/40 days during which Hajj is performed, rather it was a delay of 144 days, therefore, the learned appellate Court had rightly dismissed the appeal of the petitioner on limitation as well as on merits.

  4. As far as the contention of the learned counsel for the petitioner that enhancement in maintenance allowance cannot be sought through an application under section 151, C.P.C. but through a separate suit is concerned, suffice it to say that the provisions of C.P.C. are not stricto sensu applicable to the proceedings under West Pakistan Family Courts Act, 1964, as such the Family Court was competent to adopt its own procedure, therefore, the objection raised by the learned counsel is misconceived. The legislature has established the Family Courts for expeditious settlement and disposal of the disputes relating to marriage and family affairs and the matters connected therewith. Under the provision of section 5 of the Family Courts Act, the Family Court is vested with the exclusive jurisdiction to entertain and adjudicate upon the matter specified in the schedule. The matter of maintenance is at serial No. 3 in the schedule. Thus, the Family Court has exclusive jurisdiction relating to maintenance allowance and the matters connected therewith. Once a decree by the Family Court in a suit for maintenance is granted thereafter, if the granted rate for per month allowance is insufficient and inadequate, in that case, according to scheme of law, institution of fresh suit is not necessary rather the Family Court may entertain any such application and if necessary make alteration in the rate of maintenance allowance.

  5. Furthermore, all the Courts below have concurrently enhanced the maintenance allowance after giving due consideration to the needs/requirements of the respondents and by taking into account the financial status of the petitioner. Besides, the concurrent findings of facts recorded by all the Courts below do not suffer from any illegality, infirmity or perversity, which could convince us to interfere in the same while exercising our jurisdiction under Article 185(3) of the Constitution of Islamic Republic of Pakistan, 1973. In this regard reliance can be placed upon the case of Syed Hussain Naqvi and others v. Mst. Begum Zakara Chatha through L.Rs. and others (2015 SCMR 1081), wherein it has been held as under:-

"15. There are concurrent findings of fact recorded by the learned courts below against the appellants. This Court in Muhammad Shafi and others v. Sultan (2007 SCMR 1602) while relying on case-law from Indian jurisdiction as well as from the Pakistani jurisdiction has candidly held that this Court could not go behind concurrent findings of fact "unless it can be shown that the finding is on the face of it against the evidence or so patently improbable, or perverse that to accept it could amount to perpetuating a grave miscarriage of justice, or if there has been any misapplication of principle relating to appreciation of evidence or finally, if the finding could be demonstrated to be physically impossible." No such thing could be brought on record to warrant interference by this Court."

  1. In the above perspective, we are not inclined to interfere in the impugned order of the High Court. Resultantly, leave to appeal is refused and the petition is dismissed being devoid of merits.

MWA/N-10/SC Petition dismissed.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

The Importance of Verifying Attorney’s Authority in Specific Performance Cases: An Analysis of 2024 SCMR 1106"






عنوان: "خصوصی کارکردگی کے مقدمے میں وکیل کی تصدیق کی اہمیت: 2024 SCMR 1106 کا تجزیہ"

مقدمہ:

پاکستان میں قانونی نظام میں جب بھی کسی فرد کو کسی معاہدے کی تکمیل کے لیے عدالت کا رخ کرنا پڑتا ہے، تو اس کا عمل بالکل مخصوص اور مستند قانونی طریقہ کار کے تحت چلنا ضروری ہوتا ہے۔ حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے، 2024 SCMR 1106 (ایجاز احمد بمقابلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، پسروڑ) نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ مقدمات میں وکیل کی شناخت اور اس کے اختیار کی تصدیق نہ کرنا کس طرح قانونی فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

مقدمے کی تفصیل:

یہ کیس ایک خاص زبانی معاہدے کی مخصوص کارکردگی (Specific Performance) کے لیے دائر کیا گیا تھا، جس میں ایجاز احمد نے 25 جنوری 1996 کو مدعا علیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ درخواست میں یہ کہا گیا کہ مدعا علیہ نے زمین بیچنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ معاہدہ مکمل کرنے سے انکار کر رہا تھا۔ عدالت نے 29 جنوری 1996 کو مدعا علیہ کے وکیل کے بیان پر مقدمہ ڈگری کر دیا۔

مگر جب مدعا علیہ کو اس فیصلے کا علم ہوا، تو اس نے درخواست دائر کی کہ وکیل کی تصدیق نہیں کی گئی تھی اور اس کے وکالت نامے کی جانچ نہیں کی گئی تھی۔ اس پر سپریم کورٹ نے مقدمہ کا تجزیہ کیا اور یہ فیصلہ دیا کہ وکیل کی تصدیق کرنا ضروری ہے تاکہ یہ یقین دہانی کی جا سکے کہ وہ واقعی مدعا علیہ کا قانونی نمائندہ ہے اور اس کے پاس اس نوعیت کے معاہدے پر دستخط کرنے کا اختیار ہے۔

عدالت کا فیصلہ:

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ جس وقت مقدمہ کو ڈگری دی گئی، اس وقت وکیل کی شناخت اور اس کے اختیار کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے اہم قانونی معاملات میں وکیل کی تصدیق ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ مدعا علیہ کی طرف سے عدالت میں پیش ہو رہا ہے اور اس کے پاس معاہدہ کی تکمیل پر دستخط کرنے کا اختیار موجود ہے۔ اگر وکیل کا وکالت نامہ درست نہیں تھا یا اس کے اختیار کی تصدیق نہیں کی گئی، تو مقدمہ کا فیصلہ غیر قانونی ہو گا۔

کیس کے اثرات:

یہ فیصلہ قانونی کمیونٹی میں وکالت نامے کی تصدیق اور وکیل کی شناخت کے اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ وکیل کا بیان مقدمہ کی ڈگری کا سبب بن سکتا ہے، مگر اس کے اختیار کا تصدیق کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اس کیس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی قانونی عمل میں احتیاط اور مکمل تصدیق ضروری ہے۔

نتیجہ:

سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عدلیہ کو تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔ وکیل کی شناخت اور اس کے اختیار کی تصدیق کرنا ایک اہم قانونی ضرورت ہے، جو کسی بھی مقدمے میں انصاف کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

2024 SCMR 1106
EJAZ AHMAD vs ADDITIONAL DISTRICT JUDGE, PASROOR

S. 12 ---Civil Procedure Code (V of 1908), S. 12 (2)---Specific performance of oral agreement to sell---Suit decreed on the purported statement of the defendant's attorney---Legality---Suit seeking specific performance of the oral agreement was filed on 25 January 1996 and summons were issued to the defendant for 19 February 1996---But, on 29 January 1996, a person came forward stating that he was the attorney of the defendant and that he had no objection if the suit was decreed---Suit was accordingly decreed---Defendant on coming to know of the decree filed an application under section 12 (2), Code of Civil Procedure, 1908 which was allowed by the trial Court, and such order was maintained upto the High Court---Validity---Suit filed by the plaintiff (petitioner) should never have been decreed---Suit was filed on 25 January 1996 and the return date for the summons issued to the defendant was 19 February 1996, however, only after four days, that is, on 29 January 1996, the suit was decreed---No application for ante-dating the date, that is, 19 February 1996, was submitted in the suit, and no order was passed ante-dating the date already fixed---Order of 29 January 1996 stated that the counsel for the defendant was in attendance, but it was not explained when service of summons was effected and who engaged the counsel to represent him, nor who had signed his vakalatnama---Suit was decreed on the statement of the purported attorney, therefore, it was incumbent upon the Judge to satisfy himself as to his identity, to ensure that he was the duly constituted attorney of the defendant and that the power of attorney authorized the attorney to agree to the suit being decreed, but none of these aspects were noted by the Judge---Stated power of attorney was also not exhibited, and, if it's photocopy was produced then the Judge had to see the original thereof and exhibit it, after comparing it with the original and noting that it was a true copy thereof---Since none of the aforesaid aspects were considered the judgment and decree dated 29 January 1996 was not sustainable---Application of defendant under section 12 (2), C.P.C. was maintainable and was rightly allowed---


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

4/02/2025

"Auction of Husband's Property and Legal Complexities: A Case Analysis"







خاوند کی پراپرٹی کی نیلامی اور قانونی پیچیدگیاں: ایک تجزیہ

پاکستان میں فیملی مقدمات میں جب نان نفقہ اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے عدالتیں فیصلے کرتی ہیں تو بعض اوقات ان فیصلوں کے نفاذ میں پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کا ایک فیصلہ اسی نوعیت کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے، جس میں خاوند کی پراپرٹی کی نیلامی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قانونی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مقدمہ کا پس منظر

یہ کیس عبد القیوم اور ان کی بیوی شمیم اختر کے درمیان تھا، جہاں فیملی کورٹ نے نان نفقہ کے واجبات کی ادائیگی کے لیے درخواست گزار کی زرعی زمین کی نیلامی کا حکم دیا۔ پہلی نیلامی میں ایک خاتون ز.س. نے سب سے زیادہ بولی لگائی اور کچھ رقم جمع کرائی، لیکن وہ بقیہ رقم ادا نہ کر سکی، جس پر اس کی ابتدائی رقم ضبط کر لی گئی۔ پھر دوسری نیلامی میں ایک اور شخص م.ا. نے بولی جیتی، لیکن وہ بھی مکمل رقم ادا نہ کر سکا، جس پر اس کی رقم بھی ضبط کر لی گئی۔

ایگزی کیوٹنگ کورٹ کا فیصلہ

ایگزی کیوٹنگ کورٹ نے ضبط شدہ رقم کو مدعا علیہ (بیوی اور بچوں) کے حوالے کرنے کی درخواست منظور کی۔ تاہم، اس فیصلے میں ایک اہم قانونی پہلو سامنے آیا، یعنی یہ رقم قانونی طور پر ضبط کی گئی تھی اور مدعا علیہ کا اس پر کوئی حق نہیں تھا۔ اس کے باوجود ایگزی کیوٹنگ کورٹ نے رقم واپس کرنے کی اجازت دی۔

ہائیکورٹ کا فیصلہ

ہائیکورٹ نے ایگزی کیوٹنگ کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا اور اس پر نظرثانی کی۔ عدالت نے کہا کہ سی پی سی (سیول پروسیجر کوڈ) کی دفعات کے مطابق، جب کسی پراپرٹی کی نیلامی کی جاتی ہے، تو اگر خریدار مکمل رقم ادا نہ کرے، تو وہ رقم حکومت کو جانی چاہیے۔ ہائیکورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ضبط شدہ رقم کو مدعا علیہ کو واپس دینا غیر قانونی تھا، اور اس رقم کو حکومت کے خزانے میں جمع کروایا جانا چاہیے۔

قانونی نقطہ نظر

پاکستان کے سیول پروسیجر کوڈ کی دفعات (خاص طور پر آرٹیکل 21، قاعدہ 84، 85، اور 86) کے تحت، نیلامی میں حصہ لینے والے خریدار کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ جلدی سے خریدی گئی پراپرٹی کی مکمل رقم ادا کرے۔ اگر وہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو اس کی ابتدائی رقم ضبط کی جا سکتی ہے اور نیلامی دوبارہ کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے ان اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ کسی بھی غیر قانونی ادائیگی کو واپس کرنا ضروری نہیں ہے، خاص طور پر جب وہ حکومت کے خزانے میں جمع ہونے والی رقم ہو۔

نتیجہ

یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فیملی مقدمات میں پراپرٹی کی نیلامی کے دوران قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اور عدالتوں کو اس بات کا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ کسی بھی رقم کی منتقلی قانونی طریقے سے ہو۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اگر کوئی رقم قانونی طور پر ضبط کی گئی ہو تو وہ کسی غیر متعلقہ فریق کو منتقل نہیں کی جا سکتی، بلکہ اسے حکومت کے خزانے میں جمع کرانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ کیس قانونی پیچیدگیوں کو حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے جو ملک میں عدلیہ کے فیصلوں کی شفافیت اور انصاف پر مبنی عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔


اس آرٹیکل میں آپ نے اس کیس کے اہم پہلوؤں، عدالتوں کے فیصلوں اور ان کے اثرات کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔

Citation Name : 2023 YLR 697 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : ABDUL QAYYUM
Side Opponent : SHAMIM AKHTAR
S.5 & Sched.---Civil Procedure Code (V of 1908), O.XXI, Rr. 84, 85 & 86---Execution of decree passed by Family Court---Auction of husband's property---Right to forfeited money---Principle of unjust enrichment---Petitioner made various payments towards maintenance of his children and wife, but the decree was not satisfied---Executing Court directed auction of petitioner's agricultural land---One lady " Z.S" was declared as highest bidder and deposited Rs. 136500/- out of her purchase-money---Subsequently lady " Z.S" could not arrange balance purchase amount owing to which the Executing Court forfeited deposit of lady and directed re-auction of the property of petitioner---Second auction was held and one person "M.A" succeeded as bidder and (1/4 of the bid amount ) was deposited but remaining sum of bid was not paid by M.A and he was declared as defaulted by Executing Court---Executing Court forfeited money deposited by bidder---Respondents (mother and children) moved an application for withdrawal of deposited mone; Executing Court deducted auction expenses and allowed the application of respondents---When Executing Court intimated third auction of the property the petitioner submitted an application that he sought permission to pay sum in full and final settlement of the decree---Respondents contended that they were entitled to the forfeited amount and petitioner could not claim any set off against it---Executing Court dismissed application of petitioner---Petitioner filed revision petition before Appellate Court, which was dismissed--- Validity--- Order XXI, R. 84 of C.P.C. stipulated that whenever an immovable property was auctioned, the person declared to be the purchaser should immediately, after such declaration, pay 25 % of the amount of his purchase money to the Court Auctioneer and in default thereof the property should be re-sold forthwith----Said condition was violated when the first auction was held---Order XXI, R.85 of the C.P.C. stated that the auction purchaser should pay the full amount of the purchase-money payable by him into the Court by the fifteenth day from the sale of the property and O.XXI, R.86 defined the consequences of default---Under O.XXI, R. 86 of C.P.C. the Court may, if it thinks fit, after defraying the expenses of the sale forfeit the deposit of defaulting purchaser to the Government---In the case in hand, the Executing Court had not invoked R. 86 of O.XXI of the C.P.C. and forfeited the deposit of lady "Z.S" and person "M.A"--- Executing Court had no jurisdiction to give it over to the respondents ---Claim of petitioner and respondents was not only contrary to O.XXI, R. 86 of the C.P.C. but also the principle of unjust enrichment---Respondents should be directed to return the money unlawfully paid to them but it might be extremely difficult, if not possible, for respondents to do same at this point in time---Since respondents were entitled to recover that amount from the petitioner, the account would be settled if the Executing Court recovered that sum from petitioner and paid to the government----Constitutional petition was dismissed with the direction that petitioner should pay whatever amount was due to respondents under the decree and he should have also paid the amount of the forfeited deposit into the Executing Court which shall be deposited in the government treasury and in case of default the Executing Court should forthwith initiate proceedings for the auction of the petitioner's property---Constitutional petition was dismissed.



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Legal Complexities of Family Settlements: A Landmark Supreme Court Decision






خاندانی معاہدات اور قانونی پیچیدگیاں: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

خاندانوں میں جائیداد کی تقسیم ایک حساس اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ اکثر اوقات، خاندان کے افراد آپس میں زبانی معاہدے کرتے ہیں اور بعد میں انہیں تحریری شکل دے کر ایک یادداشت کے طور پر محفوظ کر لیتے ہیں۔ لیکن قانونی نقطۂ نظر سے کیا یہ معاہدے قابل قبول ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ نے "بشیر احمد بمقابلہ نذیر احمد" کیس میں اس حوالے سے ایک اہم فیصلہ دیا ہے جو مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔


کیس کا پس منظر

اس کیس میں بشیر احمد نے دعویٰ کیا کہ ان کے اور ان کے بھائیوں کے درمیان جائیداد کی تقسیم پر ایک زبانی معاہدہ ہوا، جسے بعد میں یادداشت کی صورت میں تحریر کر لیا گیا۔ اس یادداشت کے تحت چار بھائیوں نے اپنی جائیداد کی تقسیم کی تفصیلات کو محفوظ کیا، لیکن یہ یادداشت نہ تو رجسٹرڈ تھی اور نہ ہی اس پر دو گواہوں کی توثیق کی گئی تھی۔

نذیر احمد نے یادداشت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ رجسٹرڈ نہیں اور اس پر گواہوں کی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے قانونی طور پر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔


قانونی نکات

عدالت نے دو بنیادی سوالات پر غور کیا:

  1. رجسٹریشن کی ضرورت:

    • سپریم کورٹ نے کہا کہ اگرچہ یادداشت میں جائیداد کی تقسیم کی تفصیلات درج تھیں، لیکن یہ کسی جائیداد کی منتقلی یا تحفہ کا معاہدہ نہیں تھا۔
    • یادداشت میں جائیداد کے حقوق منتقل نہیں کیے گئے، بلکہ صرف زبانی طور پر طے شدہ تقسیم کو تحریری شکل دی گئی۔
    • چونکہ یہ معاہدہ خاندانی بندوبست کے طور پر تھا، اس لیے اس کی رجسٹریشن اور گواہوں کی توثیق کی ضرورت نہیں تھی۔
  2. قانون شہادت کی دفعہ 17:

    • عدالت نے وضاحت کی کہ اگر یہ معاہدہ جائیداد کے حقوق تخلیق یا اعلان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تو اس کی رجسٹریشن اور دو گواہوں کی توثیق لازمی ہوتی۔
    • تاہم، چونکہ یہ محض ایک خاندانی بندوبست تھا، اس لیے اس پر دفعہ 17 کا اطلاق نہیں ہوتا۔

عدالتی فیصلہ

سپریم کورٹ نے بشیر احمد کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے یادداشت کو قانونی طور پر تسلیم کیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ دستاویز غیر رجسٹرڈ تھی، لیکن چونکہ یہ خاندانی معاہدہ تھا اور اس پر عملدرآمد بھی ہوا تھا، اس لیے اسے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔


نتیجہ

یہ فیصلہ خاندانی معاہدات کے قانونی پہلوؤں کو واضح کرتا ہے۔ اکثر اوقات، خاندانی معاہدے زبانی طے پاتے ہیں اور بعد میں انہیں تحریری شکل دی جاتی ہے۔ اس کیس میں عدالت نے تسلیم کیا کہ اگر معاہدہ جائیداد کی منتقلی کے بجائے خاندانی تقسیم کے لیے ہو تو اس کی رجسٹریشن ضروری نہیں ہوتی۔

یہ فیصلہ ان افراد کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے جو خاندانی معاملات کو قانونی دستاویزات میں محفوظ کرنے کے خواہشمند ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ایسے معاہدات میں شفافیت اور باہمی رضامندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بعد ازاں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

Citation Name : 2024 SCMR 1984 SUPREME-COURT
Side Appellant : BASHIR AHMED
Side Opponent : NAZIR AHMAD
S. 17---Qanun-e-Shahadat (10 of 1984), Art. 17(2)(a)---Family settlement---Whether settlement document required registration and attestation by two witnesses---Held, that in the case at hand, a document detailing the distribution of properties was drafted---This document could be categorized as a family arrangement rather than a standard partition deed---Its contents revealed that the brothers initially reached an oral agreement regarding property distribution, which was then recorded in a memorandum---Property division outlined in the memorandum did not involve Transfer ring property from one brother to another, nor did any brother derive their property rights from another---Instead, the arrangement embodied in the memorandum acknowledged the rights of each brother to specific properties listed under their names---How the properties were to be Transfer red from one brother to another was verbally settled among the four brothers, and general powers of attorneys were exchanged among all the brothers to give effect to this verbal agreement---Since the memorandum did not constitute a deed of Transfer , gift, exchange, surrender, etc., it did not fall under the clauses of Section 17 of the Registration Act, 1908, which require registration---It also did not contain any financial or future obligations requiring attestation by two witnesses as per Article 17 of the Qanun-e-Shahadat, 1984---However, if the settlement were used as a document to create or declare rights in immovable property worth more than Rs.100, it would have needed attestation by two witnesses and also registration---It is important to note that, even though the memorandum was not registered, it was open for either party to prove that there had been a family settlement which was acted upon---Appeal was allowed


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Delay in Decree Execution: Legal Complexities and Judicial Guidance


Delay in Decree Execution: Legal Complexities and Judicial Guidance





ڈگری کے نفاذ میں تاخیر: قانونی پیچیدگیاں اور عدالتی رہنمائی

عدالتی فیصلوں کے نفاذ میں تاخیر اور قانونی پیچیدگیاں ایک عام مسئلہ ہیں، خاص طور پر جب زمین کے قبضے کا معاملہ ہو۔ حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ (PLD 2025 Lahore 286) سنایا، جس میں ڈگری کے نفاذ کی درخواستوں کے تسلسل اور ان کے قانونی جواز پر روشنی ڈالی گئی۔


---

پس منظر:

ایک ڈگری ہولڈر نے عدالت سے زمین کے قبضے کے لیے ڈگری حاصل کی۔ نفاذ کے لیے پہلی دو درخواستیں جمع کرائی گئیں:

1. پہلی درخواست: عدالت نے غلط فہمی کی بنا پر داخل دفتر کر دی کہ ڈگری پوری ہو چکی ہے۔


2. دوسری درخواست: "وارنٹ داخل" کی فیس جمع نہ ہونے کے باعث داخل دفتر کر دی گئی۔



ان دونوں درخواستوں پر کوئی حتمی عدالتی حکم نہیں دیا گیا، بلکہ محض انتظامی بنیادوں پر انہیں ریکارڈ میں داخل کر دیا گیا۔

تیسری درخواست:

کچھ عرصے بعد، ڈگری ہولڈر نے تیسری درخواست دائر کی۔ اس پر مخالف فریق نے اعتراض کیا کہ یہ درخواست مدت کی پابندی کے تحت ناقابل سماعت ہے اور "نئی درخواست" شمار ہوتی ہے۔


---

عدالتی جائزہ:

عدالت نے قانونی اصولوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ:

1. مدت کی پابندی کا اصول:

اگر ڈگری کے نفاذ کے لیے پہلی اور دوسری درخواستیں وقت پر دائر کی گئی تھیں اور ان پر کوئی حتمی عدالتی حکم صادر نہیں ہوا، تو انہیں معطل یا ختم شدہ نہیں سمجھا جائے گا۔



2. نئی درخواست یا پرانی درخواست کی بحالی؟

عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن 48(1)، سی پی سی کے تحت "نئی درخواست" تب شمار ہوتی ہے جب کوئی نیا ریلیف طلب کیا جائے یا پہلے کی درخواستوں سے الگ نوعیت کی ہو۔

چونکہ تیسری درخواست پہلے کی درخواستوں کا تسلسل تھی اور ڈگری ہولڈر نے کوئی نیا ریلیف نہیں مانگا تھا، اس لیے یہ نئی درخواست نہیں کہلائی۔



3. قبضے کے ثبوت کا معاملہ:

"وارنٹ داخل" اور "روزنامچہ وقتی" میں درج رپورٹس قبضے کا حتمی ثبوت نہیں جب تک ڈگری ہولڈر خود تصدیق نہ کرے۔





---

عدالتی فیصلہ:

عدالت نے مخالف کے اعتراضات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ تیسری درخواست دراصل پہلے کی درخواستوں کی بحالی ہے اور اسے نئی درخواست تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ڈگری ہولڈر کا حق ابھی تک پورا نہیں ہوا، اس لیے تیسری درخواست قابل سماعت ہے۔


---

نتیجہ:

یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈگری کے نفاذ کے عمل میں انتظامی غلط فہمیوں یا تکنیکی کوتاہیوں کی بنا پر درخواستوں کو غیر موثر نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب تک کوئی حتمی عدالتی حکم صادر نہ ہو، درخواستوں کو زیر التوا تصور کیا جائے گا۔

قانونی رہنمائی:

اٹارنیز اور ڈگری ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ درخواستوں کی معطلی یا داخل دفتر ہونے کے اسباب کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ اگر کوئی حتمی عدالتی حکم نہ ہو، تو انہیں درخواست کی بحالی کا حق حاصل ہے اور اسے نئی درخواست نہیں سمجھا جائے گا۔
یہ فیصلہ عدالتی نظام میں انصاف کی فراہمی کے اصول کو مضبوط بناتا ہے اور ڈگری ہولڈرز کو ان کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہے۔


PLD 2025 Lahore 286

Execution of a decree for possession and sanctioning of mutation---Computation of period of limitation---Exclusion of time during which proceedings were suspended---Revival of earlier executions petitions not decided through final order being continuation of proceedings---Scope---First and second execution petitions, which were filed within time, were consigned to record due to misunderstanding that the decree had been satisfied and for non-deposit of cost of warrant of Dakhal---Upon filing of third execution petition objection petition was filed by the petitioner raising objection as to its maintainability being barred by time, which was dismissed by the executing and appellate Courts Validity---Words 'fresh application had been used in S. 48(1), C.P.C., therefore, what was contemplated under this section by the words 'fresh application', was a substantive merely ancillary or incidental to a previous application, that was to say if the decree holder sought to set the Court into motion to take further proceedings in respect of an application already pending or where the application had been recorded or where the execution proceedings had been suspended by reasons of appeal or other proceedings, it would not be regarded as fresh application---Execution application was deemed to be pending so long as no final order disposing it judicially had been passed thereon---Subsequent application in such a case for execution would be deemed to be one merely for the continuation of the original proceedings---Where final judicial order terminating the execution petition had been passed on the application, such execution proceedings could not be revived and the subsequent application for execution would be regarded as fresh application and not one for revival and continuation of the original proceedings---Mere reports, in the "Warrant Dakhal' and 'Rapt Roznamcha Waqiati', that possession was given to the decree holders could not be taken as conclusive proof of the fact that the decree holders were put into physical possession of the suit land decreed in their favour till the decree holders admitted the said fact---Decree holders had not come to the court for some new or fresh relief rather they approached the executing court to get the relief given by High Court, thus, their third execution petition was just revival of their earlier execution petitions which were filed within time and consigned to record without satisfaction of the decree passed in their favour and the decree holders were pursuing their case since long and their decree was still unsatisfied---


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Featured Post

Court marriage karne ka tareeka | court marriage process in Pakistan.

  What is the Court marriage meaning Court marriage typically refers to a legal union between two individuals that takes place in a co...